ہے باعثِ سکون اطاعت رسولؐ کی
دل پر ہے میرے نقش محبت رسولؐ کی
آوازِ حق بلائے تو قربانیاں بھی دو
کہتی ہے بار بار یہ الفت رسولؐ کی
ہیں مطمئن جو کفر کے باطل نظام سے
اُن کو کہاں نصیب شفاعت رسول کی
اس کے سوا نہیں ہے کوئی ظلم کا علاج
نافذ کرو جہاں میں شریعت رسولؐ کی
فیضِ نبی سے خاک کے ذرے تھے آفتاب
اک شانِ امتیاز تھی سنگت رسولؐ کی
روشن رہے گا محسنِ انسانیت کا نام
اول سے تا ابد ہے رسالت رسولؐ کی
جس طرح ظلمتوں میں درخشاں ہوں مشعلیں
روشن ہے ایک ایک روایت رسولؐ کی
اقبال کو ہے فخر کہا امتی مجھے
بے شک ہے دو جہاں میں قیادت رسولؐ کی
